میں نے جلدی سے اللہ کا نام لیا اور لرزتے ہاتھوں سے ٹرک سٹارٹ کرنے کی کوشش کی، مگر انجن نے کوئی جنبش نہ کی۔ میں نے ایک بار، دو بار، کئی بار چابی گھمائی لیکن ہر بار ناکامی ہوئی۔ ابھی چند لمحے پہلے تک بالکل ٹھیک چلنے والا ٹرک اب جیسے بے جان ہو چکا تھا۔ میں پریشانی کے عالم میں نیچے اترا، بونٹ کھول کر انجن کا معائنہ کیا، بیٹری کے ٹرمینل صاف کیے اور کچھ تاریں ہلائیں، مگر بظاہر کوئی خرابی نظر نہیں آئی۔ میں نے دوبارہ سیٹ پر بیٹھ کر اللہ کا نام لے کر جیسے ہی چابی گھمائی، اس بار ٹرک ایک جھٹکے سے سٹارٹ ہو گیا۔
میں نے شکر کا سانس لیا، لیکن جیسے ہی ٹرک کو گیئر میں ڈال کر آگے بڑھایا، میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرا ٹرک غیر معمولی طور پر بھاری ہو گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے پلک جھپکتے ہی ٹرک پر کئی ٹن اضافی وزن لاد دیا ہو۔ میں پورے زور سے ایکسیلیٹر دبا رہا تھا، مگر ٹرک کسی بوجھل چیونٹی کی طرح گھسٹ گھسٹ کر چل رہا تھا۔ حالانکہ مال اتنا زیادہ نہیں تھا کہ رفتار پر کوئی فرق پڑتا۔
میں اسی شش و پنچ میں تھا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ میں نے کن اکھیوں سے اس لڑکی کی طرف دیکھا۔
وہ بالکل ساکت اور خاموش بیٹھی تھی، جیسے پتھر کی کوئی مورت ہو۔ اس کی یہ پراسرار کیفیت مجھے خوفزدہ کر رہی تھی۔ راستہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا تھا؛ ہر طرف گھنے درخت، گھپ اندھیرا اور قبرستان جیسا سناٹا تھا۔
اسی دوران مجھے اپنے کندھوں پر ایک شدید بوجھ محسوس ہونے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے کندھوں پر کئی من وزنی کوئی چیز رکھ دی گئی ہو۔ رفتہ رفتہ میرا پورا جسم بوجھل ہونے لگا، یہاں تک کہ سٹیرنگ گھمانا بھی میرے لیے ایک عذاب بن گیا۔ میرا سر پھٹا جا رہا تھا اور ایک عجیب سی گھٹن آکسیجن کم کر رہی تھی۔ میں اسی اذیت میں ٹرک چلاتا رہا، یہاں تک کہ آدھے گھنٹے بعد وہ لڑکی ایک سنسان موڑ پر ٹھہرنے کا اشارہ کرتی ہے۔
"آپ مجھے یہیں اتار دیں،" اس کی سرد آواز گونجی۔
میں نے فوراً ٹرک روک دیا۔ باہر کا منظر نہایت بھیانک تھا؛ وہ ایک خطرناک موڑ تھا جہاں دور دور تک نہ کوئی گھر تھا، نہ روشنی، نہ ہی کوئی انسان۔ سامنے ایک نہر بہہ رہی تھی جس کے گرد خود رو جھاڑیاں اگی تھیں اور دوسری طرف سیاہ پہاڑ کھڑے تھے۔
میں نے حیرت سے پوچھا، "بی بی! یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ کہاں جائیں گی؟"
اس نے صرف اتنا کہا، "میں آگے چلی جاؤں گی۔"
وہ جیسے ہی ٹرک سے اترنے لگی، فضا میں 'چھن چھن' کی آواز گونجی۔ میں نے غور کیا تو وہ آواز اس کے پاؤں میں پہنی پازیبوں سے آ رہی تھی۔ میں دنگ رہ گیا کیونکہ جب وہ ٹرک میں سوار ہوئی تھی، تب ایسی کوئی آواز نہیں آئی تھی۔ جیسے ہی اس کے قدم زمین پر پڑے، آپ یقین مانیے، میرا ٹرک ایک جھٹکے سے اوپر کو اٹھا اور بالکل ہلکا ہو گیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے کئی ٹن وزنی بوجھ لمحوں میں اتر گیا ہو۔ میں نے اسے اپنا وہم سمجھ کر نظر انداز کرنا چاہا، مگر جو کچھ آگے ہونے والا تھا وہ وہم نہیں تھا۔
وہ لڑکی ان سیاہ پہاڑوں کی طرف بڑھنے لگی۔ میں نے ٹرک سٹارٹ رکھا اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا کہ آخر یہ اس ویرانے میں کہاں جائے گی۔ وہ چلتی رہی اور پھر اچانک... وہ سیدھی اس بہتی ہوئی نہر کے اندر داخل ہونے لگی۔
میرا جی چاہا کہ چیخ کر اسے روکوں، آواز دوں، مگر خوف نے میری زبان گنگ کر دی تھی۔ اتنی شدید سردی اور یخ بستہ پانی! میں دل میں کہہ رہا تھا کہ یہ لڑکی پاگل ہے کیا؟ اس ٹھنڈ میں کون پانی میں اترتا ہے؟ میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ لڑکی پانی کی گہرائیوں میں اترتی گئی اور مکمل طور پر نظروں سے غائب ہو گئی۔
خوف سے میری حالت غیر ہو رہی تھی۔ مجھے لگا کہ شاید وہ پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈوب گئی ہے...
لیکن میں غلطی پر تھا۔ جیسے ہی وہ لڑکی نہر کی گہرائی میں غائب ہوئی، مجھے کسی کے ہنسنے کی وہی سرد اور کھوکھلی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ اس بار وہ آوازیں پہلے سے زیادہ بلند، کرخت اور خوفناک تھیں۔ خوف کے مارے میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے، میں نے فوراً ٹرک بھگایا اور تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا۔
میں ابھی اس صدمے سے نکلا ہی نہیں تھا کہ مجھے شدید بھوک کا احساس ہوا۔ میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا اور چاہتا تھا کہ کہیں کوئی آبادی یا ڈھابہ نظر آئے جہاں رک کر کھانا کھا لوں اور ایک کڑک چائے پیوں، تاکہ سر کا درد اور یہ وہشت کچھ کم ہو۔ تھوڑا آگے جا کر اندھیرے میں ایک ڈھابہ نظر آیا۔ میں نے ٹرک روکا اور نیچے اترا۔ ڈھابے والے سے واش روم کا پوچھا تو اس نے پیچھے کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں گھپ اندھیرا تھا اور صرف ایک مدھم سا بلب جل رہا تھا۔
میں واش روم میں گیا تو برابر والے کیبن سے عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں۔ ایسا لگا جیسے کوئی خود کلامی کر رہا ہو، پھر اچانک بلب بجھ گیا اور اندھیرا چھا گیا۔ روشنی گل ہوتے ہی وہ آوازیں تیز ہو گئیں جو اب کسی درندے کے غُرانے جیسی لگ رہی تھیں۔ میں دیوار سے کان لگا کر سننے لگا تو یوں لگا جیسے کوئی عورت بین کر رہی ہو۔ اس ویرانے میں، رات کے اس پہر کسی عورت کا کیا کام؟ میں نے ہمت کر کے دروازہ کھولا کہ دیکھوں کون ہے، مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ دونوں ساتھ والے واش روم خالی اور ویران پڑے تھے۔ یہ منظر مجھے مزید ڈرا دینے کے لیے کافی تھا کیونکہ میں نے وہ آوازیں بالکل صاف سنی تھیں۔ میں جلدی سے ہاتھ دھو کر واپس آیا، کھانا کھایا، چائے پی مگر میرا دھیان بار بار اسی لڑکی اور ان آوازوں کی طرف جا رہا تھا۔
میں نے چائے کے پیسے دیے اور دوبارہ سفر پر روانہ ہو گیا۔ ابھی تھوڑا ہی آگے بڑھا تھا کہ جو کچھ دیکھا اس نے میرا خون خشک کر دیا۔ سڑک کے عین وسط میں وہی لڑکی کھڑی تھی اور مجھے ٹرک روکنے کا اشارہ کر رہی تھی۔ لیکن اس بار اس کا روپ بالکل مختلف اور ناقابلِ بیان حد تک خوفناک تھا۔ اس کے سفید کپڑے اب میلے اور چتھڑوں میں تبدیل ہو چکے تھے، اس کے لمبے کالے بال ہوا میں ایسے لہرا رہے تھے جیسے سینکڑوں سانپ فن پھیلائے ہوئے ہوں،
اور اس کا چہرہ... اس کا چہرہ اب انسانی نہیں رہا تھا۔ آنکھیں گڑھوں میں دھنسی ہوئی تھیں جن میں ایک سرخ منحوس چمک تھی، جلد زرد اور سوکھی ہوئی تھی اور لبوں پر ایسی شیطانی مسکراہٹ تھی جو کسی بھی جری انسان کا جگر پاش پاش کر دے۔
وہ میرے ٹرک کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ میرا پورا جسم سن ہو گیا جیسے مجھ پر فالج گر گیا ہو۔ اس کی کھوکھلی ہنسی اب میرے کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی، اس ہنسی میں صدیوں کا درد، نفرت اور وحشت بھری تھی۔ اچانک مجھ میں جیسے بجلی کوند گئی۔ میں نے پوری طاقت سے ہارن بجایا، ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھا اور سوچا کہ ٹرک اس پر چڑھا دوں گا۔ لیکن جیسے ہی میں آگے بڑھا، وہ ناقابلِ یقین تیزی سے سڑک کے ایک طرف ہو گئی۔
میں نے ٹرک بھگانے کی کوشش کی مگر اس کی ہنسی میرا پیچھا کر رہی تھی۔ وہ غیر انسانی رفتار سے میرے ٹرک کے برابر بھاگ رہی تھی۔ سائیڈ شیشے میں دیکھتا تو وہ میرے بالکل برابر ہوتی، اس کی آنکھیں سیدھی مجھ پر جمی تھیں۔ میرا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی سینہ پھاڑ کر باہر آ جائے گا۔ میں نے آنکھیں بند کیں اور اونچی آواز میں آیت الکرسی اور چاروں قُل پڑھنا شروع کر دیے۔
میری زبان لڑکھڑا رہی تھی، الفاظ ٹوٹ رہے تھے مگر میں پڑھتا رہا۔ ایسا لگتا تھا وہ میرے کیبن کے اندر ہی بیٹھ کر ہنس رہی ہے۔
کچھ دیر بعد دور کچھ روشنیاں نظر آئیں، شاید کوئی بستی یا چیک پوسٹ تھی۔ جیسے ہی میرا ٹرک ان روشنیوں کے قریب پہنچا، وہ ہنسی مدھم پڑتے پڑتے بالکل بند ہو گئی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے شیشے میں دیکھا، وہ اب وہاں نہیں تھی۔
میں کسی نہ کسی طرح کانپتے لرزتے اپنی منزل 'بندر' پہنچا۔ ٹرک روکتے ہی میری ٹانگوں سے جان نکل گئی اور میں وہیں سٹیرنگ پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ وہاں موجود مزدور میری حالت دیکھ کر دوڑے آئے۔ میں نے سارا واقعہ اپنے ایک پرانے دوست کو سنایا۔ میری طبیعت اتنی بگڑ گئی کہ مجھے تیز بخار چڑھ گیا اور مجھے ہر وقت اپنے آس پاس کسی کی موجودگی کا احساس ہونے لگا۔ دوست نے مجھے ہسپتال داخل کروایا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ مجھے شدید اعصابی صدمہ پہنچا ہے۔
میرا بھائی مجھے کراچی واپس لے آیا، مگر وہاں بھی میری حالت نہ سنبھلی۔ میں راتوں کو چیخ مار کر اٹھ جاتا اور ہر سفید کپڑوں والی عورت سے ڈرنے لگا۔ آخر کار گھر والوں نے میرا روحانی علاج کروایا۔ ایک نیک عالم کے دم اور وظائف کے بعد مہینوں کی محنت سے میری حالت بہتر ہونا شروع ہوئی۔ وہ خوف جو میری روح میں بس گیا تھا، آہستہ آہستہ کم ہونے لگا، مگر اس واقعے نے مجھے اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔
آج اس واقعے کو ایک سال سے زیادہ گزر چکا ہے۔ میں نے مجبوری میں دوبارہ ٹرک چلانا تو شروع کر دیا ہے، لیکن اب میں وہ پہلے والا 'جمیل' نہیں رہا۔ وہ رات، وہ پراسرار لڑکی، اس کی سرد ہنسی اور وہ بھیانک چہرہ آج بھی میری آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ میں نے یہ سبق سیکھا ہے کہ کچھ باتیں اور کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جن سے پرہیز کرنا ہی عافیت ہے، کیونکہ دنیا میں بہت کچھ ایسا ہے جو انسانی سمجھ سے بالاتر اور نہایت خوفناک ہے۔
اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔
میں ہوں فرزانہ خان ...
اگر آپ کو میری آواز میں خوفناک کہانیاں سننا پسند ہے تو ہمارے چینل Karim Voice کو subscribe ضرور کریں
اور اگر اپ بھی اپنی سچی کہانی یا اپنے قریب ترین دوست کی کوئی سچی کہانی ہمیں بھیجنا چاہیں تو Description میں ہمارا watsapp نمبر ہے وہاں پر ہمیں لکھ کر بھیجیں ہم اسے اپنے چینل پر پڑھیں گے
Jazakumullah

